ابنا: اے ایف کی رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز ایک عدالتی اہلکار نے بتایا کہ کارکنوں کو گزشتہ سال مئی میں روڈ جام کرنے کے لیے بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔
بحرینی آمر حکومت کی یہ کارروائی اس سلسلے کی نئی کڑی ہے کہ جس کے تحت بحرینی مظاہرین کو بڑی تعداد میں جھوٹے الزام لگا کر جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، انہیں میں سے ایک مشہور انسانی حقوق کارکن نبیل رجب ہیں۔
انسانی حقوق کے لئے بحرین کے مرکز کے سربراہ و ممتاز انسانی حقوق کارکن کوغیر قانونی احتجاج میں شرکت کے الزام میں قید میں ڈال دیا گیا۔
رجب کو ابتداء میں تین برس قید کی سزا سنائی گئی لیکن بعد میں اسے گھٹا کر دو برس کر دیا گیا۔
گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آل خلیقہ حکومت سے کہا تھا کہ ممتاز کارکن کو فوری طور پر رہا کر دے۔
.....
/169